
قرض کی حد پر وائٹ ہاؤس میں مذاکرات سے پہلے امریکی ڈیفالٹ کے خدشات بڑھنے کے باعث مارکیٹ کا رجحان بدستور منفی ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے مسائل اور یہ توقعات بھی رسک آف رجحان کو تقویت دے رہی ہیں کہ پالیسی میں تبدیلی کی حد تک پہنچنے سے پہلے فیڈ کے پاس ابھی کچھ گنجائش باقی ہے۔
اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر مسلسل دوسرے روز مضبوط رہنے میں کامیاب رہا، جبکہ کموڈیٹیز، آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر جیسی زیادہ رسک والی اثاثہ جات اور شیئرز میں بتدریج گراوٹ آئی۔ دوسری جانب، سونے اور خام تیل کی تازہ بحالی کا زور ٹوٹ گیا، جبکہ رسک کے پیمانے سمجھے جانے والے AUDUSD میں سات دن کے دوران پہلی یومیہ گراوٹ ریکارڈ ہوئی۔
رسک کی طلب کے علاوہ، آسٹریلیا کی کمزور ریٹیل سیلز اور چین کے تجارتی اعداد و شمار بھی آسٹریلوی کرنسی کے جوڑے کی قیمت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہی عوامل NZDUSD کے خریداروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہے ہیں، جبکہ بدھ کو امریکا کے افراطِ زر کے اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے امریکی ڈالر کو مارکیٹ میں قبولیت حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے اور EURUSD اور GBPUSD بتدریج اوپر جا رہے ہیں۔
منفی مارکیٹ جذبات کے باعث کرپٹو کرنسیاں بدستور دباؤ میں ہیں۔ عالمی لیکویڈیٹی کی کم ہوتی دستیابی بھی اس کی وجہ ہے، جبکہ مرکزی بینک کساد بازاری کے خدشات کے باوجود سخت گیر مؤقف پر قائم ہیں۔
اہم اثاثوں کی تازہ ترین نقل و حرکت درج ذیل ہے:



اہم ڈیٹا/واقعات سے پہلے رسک سینٹیمنٹ کمزور پڑ رہی ہے
اگرچہ امریکی پالیسی ساز قرض کی حد سے متعلق معاہدے پر پہنچنے کے بارے میں پُرامید ہیں، لیکن مارکیٹس کو ان پر بھروسا نہیں ہے، کیونکہ جون کی ڈیڈ لائن میں ابھی چند دن باقی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ سطحی سفارت کاروں کے درمیان اختلافات بہت زیادہ ہیں۔
مزید یہ کہ، فیڈ کی بینک قرضوں سے متعلق رپورٹ قرضوں کی فراہمی میں سختی اور سرمایہ کاروں کے خدشات کو نمایاں کرتی ہے۔ اس سے مارکیٹ کی سنگین صورتحال بھی سامنے آتی ہے، چاہے مرکزی بینک کے عہدیدار کساد بازاری کے خدشات کو مسلسل مسترد کرتے رہیں۔
اہم خطرات کو جنم دینے والے عوامل کے علاوہ، آسٹریلیا کی پہلی سہ ماہی کی کمزور ریٹیل سیلز اور چین کی برآمدات میں سست رفتار نمو بھی پچھلی امیدوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں پیر کو برطانیہ اور فرانس میں تعطیلات کے بعد مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلنے پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں قرض کی حد سے متعلق مذاکرات کلیدی اہمیت رکھتے ہیں
اگرچہ منگل کو اقتصادی کیلنڈر میں کوئی اہم چیز دیکھنے کے لیے نہیں ہے، لیکن ڈیفالٹ کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بچنے کے لیے امریکی سفارت کاروں کے مذاکرات اہم ہوں گے، کیونکہ امریکی وزیرِ خزانہ نے اسے ”تباہ کن“ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، برطانیہ کی واپسی اور BOE اور ECB کے بارے میں بڑھتے ہوئے ہاکش خدشات بھی ٹریڈرز کو امریکی ڈالر کی حالیہ اصلاحی بحالی کا رخ پلٹنے کا موقع دے سکتے ہیں۔
ٹریڈنگ میں قسمت آپ کا ساتھ دے!